| CARVIEW |
زُبانِ شِیرٰیں
سارے جہاں میں دھوم ہماری زُباں کی ہے
6.17.2007
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 8:08 PM|
تبصرے3 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
3.29.2007
یہ مُلاؤں کی بستی ہے
جسِے چاہیں کہدیں کافر ہے
جسِے چاہیں کہدیں مُرتد ہے
یہ بنِا جَرح اور بِنِا گواہی
جسِے چاہیں کریں سَنگسار
مُلاؤں کی اِس بستی میں
کوئی لال ہے، کوئی پیلی ہے
ہے کالی اور کوئی نیلی ہے
جو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے
وہ کل نہیں بس آج بنی ہے
اس بستی کی ہر نُکڑ پے
ہے بَارِ زندگی گراں، اور
موت کی بازی سستی ہے
یہ مُلاؤں کی بستی ہے
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 10:41 AM|
تبصرے4 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
3.24.2007
فیصلہ
لب پر مُہر لگانے سے پہلے
ذرا میرا جُرم بتاؤ کیا ہے
ہاں سولی پہ چڑھ جاؤں گا
گلے ہنس کر دار لگاؤں گا
فیصلہ بتا دو مُجھہ کو تُم
کس کی گواہی پر مبنی ہے
٢٤ مارچ ٢٠٠٧
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 4:02 AM|
تبصرے0 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
3.17.2007
نعرہء حق
نعرہء حق
جیم جنجوعہ
کیا ردیف و قافیہ
کیا آدابِ نظم و نثر
کیا اوزان اور کیا بحر
ھو کیسے پابندیء سُخن
سیاہ دورِ غلامی میں
چھن جاتی ہے سَمع و بَصر
وہ خاکی ہیں یا آہنی ہیں
کیا غرض ہمیں تجرید سے
ہم کو تو بس غرض ہے
عہدِ وفا کی تجدید سے
یہ آدھ کِھلی جمھوریت
اور سیاستِ دیر و حرم
زندہ قوموں کے زوال کی
کر رہی ہے داستان رقم
ہے جو مشروط آزادی
دانشوری کی موت ہے
خداوند کے عذاب کی
یہ ایک صورت اور ہے
لگا کے ہونٹوں پہ قدغن
وہ سمجھے ہیں سکوت ہے
محکوموں کی آہوں سے
جل اٹھتے ہیں چراغِ سَحر
لگا کے ہر سوچ پر پہرہ
سمجھتے ہیں کہ جمود ہے
یہی دھر کے فراعینوں کا
رہا ھر دور میں دستور ہے
سوچتے ہیں دبا لیں گے
وہ طاقتِ جمہور کو
اور پسِ زِنداں ڈالیں گے
اب ھر اِک بے قصور کو
ہے حکم ربِ جلالی کا
اُترے گا طوق غلامی کا
اور اب دور سُنہرا آئے گا
محکوموں کی شاہی کا
"ہم اہلِ صفا، مردودِ حرم"
بس چاہتے ہیں انصاف ہو
تجھ سے کہتے ہیں اے رب
گھر جمھوریت کا آباد ہو
اے رب ابرِ کرم کا برسادے
تو ہی اپنا جلوہ دکھلا دے
جو ہاتھ اُٹھے تیری خلقت پر
اُسے نشاں عبرت کا بنا دے
گَر نہ ملی جو برحق ہے
اذانِ جبریل و پیمبر ہے
پڑھ لو نوشتہء دیوار کو
ہم چھین کے لیں گے آزادی
مارچ17, 2007
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 2:09 PM|
تبصرے3 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
1.10.2006
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 12:23 PM|
تبصرے5 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
1.07.2006
کچھ کہانی سنیاسی باوا کی
یہ پڑھ کر مجھے دو دلچسپ واقعات یاد آگئے۔پہلا تو یہ کہ جب VIAGRA دنیا میں متعارف ہوئی توفورا ہی پاکستان میں اسوقت کی حکمران پارٹی کے ممبرانِ قومی اسمبلی اس دوا کو پاکستان میں متعارف کرانے کے لئے حکومتی سطح پر کوشاں ہو گئے۔ اب مجھے نہیں معلوم کے اپنے تیئں اُن کی مشینری واقعتا“ اتنی ہی ناکارہ تھی کہ انہیں اِس دوا کی اشد ضرورت پڑگئی یا وہ عوام کی فلاح کے لئے اس کام میں بھرپور دلچسپی کا مظاھرہ کر رہے تھے۔ حضرتِ ْجْ کا خیال ہے کہ اس کے بین عوام کی امنگوں سے زیادہ لذتِ شہوانی کی تابانی اور ضوفشانی کا عنصر کارفرما تھا۔
اب دوسرا واقع بھی سنیئے جو اگرچہ مزاح سے بھرپور ہے مگر بحثیتِ قوم ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ ١٩٩٢ کے اواخر کی بات ہے۔ ابھی مجھے گورنمنٹ کالج لاھور (GC) سے ایم اے معاشیات کا قطعی (Final) امتحان دیئے دس ماہ کا عرص گزرا تھا، کہ میں جی سی میں معاشیات کے شعبہ کے سربراہ ڈاکٹر خالد آفتاب (حالیہ رئیسِ دانشگاہ -یعنی وائس چانسلر) کے توسعت سے پنجاب کے چھوٹے صنعتی اداروں(Punjab Small Industries Corporation) کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ تیار کرنے کے لئے متعین ہوا۔ یہ کام عالمی ادارہ برائے محنت کشا(International Labor Organization, Geneva) کے تعاون سے جناب عمر اصغرخان صاحب (اللہ ان کی مغفرت کرے) کے تحقیقی ادارے (SEBCON) کو ملا تھا۔ اس کام کے لئے میں اپنی نگرانی میں تحقیق کاروں کی ایک جماعت لئے لاھور سے ڈیرہ غازی خان تک پھیلے چھوٹے صنعتی اداروں کے جائزے کے لئے نکل کھڑا ہوا۔ ابھی ہم لاہور، گوجرانوالہ، اور شیخوپورہ سے ہوتے ہوئے فیصل آباد کے صنعتی اداروں تک پہنچے تھے کے ہمیں اطلاع دی گئی کہ (ILO) کے ایک صاحب جرمنی سے ہماری کارکردگی جانچنے کے لئے تشریف لا رہے ہیں۔ چنانچے ہم واپس لاہور آئے اور جرمن تحقیق کار مسٹر فرینک (Frank) کو لئے پھر چل کھڑے ہوئے۔ فرینک صاحب کے ذمے یہ کام تھا کہ ہم تحقیق کاروں کی خوب چھان پھٹک کریں اور سب اچھا ہے کی رپورٹ (ILO) سرکار کو دیں۔ فرینک صاحب نے ہمارے ساتھ تین دن اور چار راتیں گزاریں اور لاھور سے لے کر ٹوبہ ٹیک سنگھ (جس کے حوالے منٹو صاحب کا افسانہ بھی ہے) تک کا سفر کیا۔ راستے میں ایک مقام پر فرینک نے سڑک کے کنارے ایک چار دیواری کی طرف اشارہ کیا اور بولا۔
خیر امریکہ میں آنے کا یہ فائدہ تھا کہ جنسی تعلیم عام ہے اور کوئی چیز چھپا کر نہیں پڑھنی پڑتی۔ اگر کوئی چیز باعثِ شرم ہے تو وہ لاعلمی ہے۔ میں نے باقائدہ اس معاملے پر تفصیل سے پڑھا اور معلوم ہوا کہ قوت باہ کا مسئلہ نفسیاتی زیادہ اور طبعی کم ہے۔ اور یہ بات ہمارے مشرقی معاشرے میں خاص طور پر صادق آتی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں اسلامی روح کے حوالے سے جو باتیں والدین کے ذریعہ اولاد تک پہنچنی چاہیں وہ اناڑی دوستوں، اشتہاروں، اور تھڑے کی مفحلوں سے نوجوانوں تک پہنچتی ہیں۔ اور بلاشبہ پاکستان میں کئی نوجوانوں کو شادی سے پہلے حبِ خاص اور طلائے مغلظ استعمال کرتے دیکھا اور سنا ہے۔ آج بھی فرینک کا جواب سوچتا ہوں تو اندازہ ہوتا ہے کہ سنیاسی باوا سے لے کر فائزر (Pfizer) تک سبھی نے سادہ لوح عوام کو بےوقوف بنایا ہے۔ اور ناتجربہ کار نوجوان سب سے زیادہ ان کے ہاتھوں چڑھتے ہیں۔۔۔۔۔ ارے بھائی سبزی کھاؤ، ورزش کرو، اور دماغ تازہ رکھو۔۔۔ تو باقی سب ٹھیک ہے۔
تبصرہ: ۔ویسے ایک بات ہے ذہنی بیماری تو اپنی جگہ ہے مگر کچھ لوگ واقع میں ٹائیں ٹائیں فش ہوتے ہیں۔شائد کہ بچپن کی غلطیوں کی وجہ سے ،ان کے لئے ویاگرا بہت ضروری ہے۔
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 11:47 PM|
تبصرے3 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
1.03.2006
Technoratiٹیکنورتی
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 9:20 PM|
تبصرے0 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
MIT Media Lab: $100 Laptop آج کی تازہ خبر
اور آج کی تازہ خبر واقعی شاندار ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہماری حکومت اس سے کیسے فائدہ اُٹھاتی ہے۔۔ حد تو یہ ہے کہ اردو کے انٹرنیٹ پر فروغ کے لئے عملی کاوشیں نجی اداروں اور افراد کے ذریعے ہو رہی ہیں۔ لگتا ہے تعلیم کے فروغ کا عمل اور اردو Laptop کا ارتقا اور اجرا و استعمال جیسے دقیق کام بھی عوام کو نجی اداروں کے ذریعے کرنا پڑیں گےا۔ MIT Media Lab: $100 Laptop: "The MIT Media Lab has launched a new research initiative to develop a $100 laptop-a technology that could revolutionize how we educate the world's children. To achieve this goal, a new, non-profit association, One Laptop per Child (OLPC), has been created. The initiative was first announced by Nicholas Negroponte, Lab chairman and
co-founder, at the World Economic Forum at Davos, Switzerland in January 2005."
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 4:13 PM|
تبصرے0 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.31.2005
سالِ نو مبارک
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 9:18 PM|
تبصرے0 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
چمبڑ جا
ایک بندے دا ویاہ نہیں ہوندا تے او "چھڑیاں دی اَگ نہ بلے" وی سُن سُن کے تنگ آ جاندا اے۔ آخرکار اپنے ہتھ اپنی حیاتی مکاؤن دا فیصلہ کر کے بیلے (جنگل) وچ نکل جاندا اے تانکہ اُنھوں کوئی بھگیاڑ ڈپھ لوَے۔ اپنے غم وچ غلطاں سِر نیوڑے ٹُریا جاندا تے اِک اُجاڑ جگہ انھوں اِک چُڑیل لبھدی اِے۔ او فیر وی لگا جاندا اے۔ چڑیل بڑی پرشان ہوندی اے تے چھڑاپی مار کے اوہدے رستے وچ آن کھلوندی اے۔ آکھدی اے۔۔ہو ہا ہا ہا ۔۔۔تینوں جابدا نئیں۔۔ میں چڑیل آں!
بندہ نجر اُتاں کر کے تکدا اے تے کھندا اے۔۔ ویکھنی کی ایں۔ آ فیر چمبڑ جا
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 11:58 AM|
تبصرے1 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.30.2005
نیا ٹیمپلٹ
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 5:21 AM|
تبصرے4 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.29.2005
پرخچے
موجودہ صورتِ حال: ہم پھر کوچہ جاناں میں دشنام طرازی کے مرتکب ہو چکے ہیں اور Firefox میں یہ صفحہ دیکھنے سے یوں لگتا ہے جیسے اس پر کوئی بھوت پھر گیا ہو۔ جائیں تو جائیں کہاں۔
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 1:22 PM|
تبصرے3 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.28.2005
قصہ ایک خودکشی کا
اگلی شام میں نے اُسے یہ مژدہ سُنایا کہ میں ‘مِیم‘ کو بالکل بھلا چکا ہوں کیونکہ مجھے اندازہ ہو چکا ہے کہ اُسے میری کوئی پرواہ نہیں ہے۔ لہذا میں بھی ایسی لڑکی کے فراق میں اپنی جان ہلکان نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر وہ اپنے کل والے پروگرام پر عمل درآمد کرنا چاہے تو بصد شوق، میری طرف سے مکمل اجازت ہے۔ پہلے تو اُس نے بُرا سا منہ بنایا پھر بولا؛-- ج جنجوعہ تم چاہتے ہو کہ میں خودکشی نہ کروں، اسی لئے تم نے اپنے عشق کا اختتام کر دیا ہے۔ لہذا مجھے بھی اس منافقانہ ردِعمل کی ضرورت نہیں۔ ہاں کل سے میں نے اپنی محبوبہ ‘نون‘ پر دوبارہ عاشق ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ میں اپنا روگ سنا کر تمہارا حال شتاب کروں گا۔ ‘ج جنجوعہ‘ اب تمہاری باری ہے، تم خود کشی کیلئے تیار ہو جاؤ۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا میرا افسانہ یہیں ختم ہو گیا؟ جی نہیں! ترقی پسند تحریک کے متاثرین افسانہ نگار کبھی بھی افسانے کو اُس کے کلائمکس (عروجِ بام) پر ختم نہیں کرتے اور ہمیشہ مٰابعد کے واقعات پر روشنی ڈالتے ہیں تاکہ قاری کو بتا سکیں کہ اس واقعہ کے بعد کوئی قیامت نہیں ٹوٹی اور زندگی اُسی طرح سے رواں دواں ہے۔ لہذا اُن کی اندھی تقلید میں ہم آپ کو یہ ضرور بتائیں گے کہ بعد میں کیا ہوا (آخر ہم بھی بھیڑچال کا شکار ہیں)۔ ‘ش شیخ‘ کو اپنے معاملاتِ عشق میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہ ہو سکی اور میں اپنے عِشق کا اختتام کرنے کے بعد ‘مِیم‘ کی یاد میں پہلے سے بھی زیادہ ٹھنڈی آہیں بھرنے لگا۔ ‘ش شیخ‘ کی مستقل مزاجی مسلسل اعصاب شکنی کی وجہ سے جواب دے گئی۔ اور اُس نے ایک بار پھر خود کشی کے متعلق سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا۔
ابھی تک اس نے اپنے فیصلے پر نظرِ ثانی نہیں کی، امید ہے وہ میرے مشورے پر آج رات خودکشی کر لے گا کیونکہ بقول اُسکے وقت بہت کم ہے اور کل صبح اُسے اِسلام آباد بھی پہونچنا ہے۔ اور چونکہ وہاں سے واپسی کم از کم ایک ہفتہ بعد متوقعہ ہے، لہذا اِس سعد کام (خود کشی) کے لئے ہفتہ بھر انتظار نہیں کیا جا سکتا۔
(یہ مزاحیہ ١٩٩٢ میں لکھا گیا تھا جب میں اور ‘ش شیخ‘ گورنمنٹ کالج لاہور میں زیرِ تعلیم تھے۔ اِس کے بعد سے میں نے ج جنجوعہ کا قلمی نام اپنا لیا۔ اس کا کریڈٹ اسد یعنی ‘ش شیخ‘ کو جاتا ہے۔ معلوم نہیں وہ آجکل کہاں ہے۔ گورنمنٹ کالج سے تحصیل علم کے بعد ایک بار کراچی سے لاہور آتے ہوئے میری ڈائری کراچی کے ہوائی اڈے پر کھو گئی۔ اِسطرح بہت سے پرانے راوینز سے رابط ٹوٹ گیا۔ شیخ صاحب اگر اِسے پڑھیں تو فورا“ رابط کریں انھیں کچھ نہیں کہا جائے گا)
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 4:31 PM|
تبصرے4 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.27.2005
Skiing سکینگ
جمیل نے اپنی بیگم سے سیکھی تھی۔ سو ہم سب اس کے ساتھ گئے تھے۔ اور میں نے پہلے دن ہی اچھی خاصی Skiing کی۔ میں صرف چند بار لڑکھڑایا اور ایک بار کمر کے بل گرا۔ چونکہ Ski پہنے ہوتے ہیں سو آپ پیٹھ پر گرنے کی بجائے سیدھے کمر پر گرتے ہیں۔ شکر ہے برف کے نیچے کوئی پتھر نہیں تھا وگرنہ بہت بری چوٹ آتی۔ اگلی بار سعدی اور بچوں کو بھی سکھانے کا اراداہ ہے۔ میں نے ابھی Cross Country سیکھنا شروع کی ہے۔ مہارت آنے کے بعد Down Hill شروع کروں گا۔ Down hill مشکل ہوتی ہے۔
میں سعدیہ اور بچے

یاسمین، عمر، نصرین، اور احمد While sledging.

ماریا (Mrs. Jameel)، جمیل اور ج جنجوعہ۔ یہی ایک اکٹھے تصویر تھی مگر کیمرہ ہل گیا
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 2:43 PM|
تبصرے2 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
تجربہ
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 2:14 PM|
تبصرے0 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.26.2005
راز
پہلا


ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 11:37 PM|
تبصرے3 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
سمجھداری
اتنی دیر میں میرا ایک دوست شہزاد آگیا جو کہ مہاجر ہے۔ اب ہماری دکان میں مجھ سمیت تین سندھی تھے اور ایک غلام فرید۔ شہزاد بھی کہنے لگا کہ پنجابی طاقت کے زور پر ڈیم بنانا چاہتے ہیں۔ غلام فرید نے کہا کہ اگر طاقت کے زور پر بنانا ہوتا تو کب کا بن گیا ہوتا۔ ان لوگوں نے غلام فرید پر ایسے الزام لگائے جیسے پاکستان میں آج تک ہونے والے سارے مظالم کا وہی ذمہ دار ھے۔
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 11:09 AM|
تبصرے5 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.25.2005
سات سال
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 2:54 PM|
تبصرے6 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.24.2005
آپکے راز اور اعترافات
اِس نمائش میں
فرینک وارن: Frank Warren
کے نام گمنام لوگوں نے اپنے راز اور دکھ سکھ بھیجے ہیں۔ وارن نے انہیں آرٹ کی شکل میں ایک نمائش میں پیش کیا ہے۔ رانا صاحب جیسے لوگ خال خال ہی ملتے ہیں جو کھلے دِل اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہیں۔ لیکن گمنام طریقے سے اپنے راز اور کمزوریاں بتانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ بعض دفعہ ایسا کرنے سے انسان سچ بول کر اپنی کمزوریوں پر قابو پا لیتا ہے۔
میں نے سوچا کہ کیوں نہ اردو میں بھی کچھ ایسا کام کیا جائے۔ بہت سے راز اخلاق کے دائرے سے باہر بھی ہو سکتے ہیں لہذا براہ کرم اپنے راز لکھتے ہوئے ایک بات کا خیال رہے، کہ بے حیائی سے اجتناب کریں۔ اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ اردو ادب کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اپ کسی بات کو بھی استعارے استعمال کرتے ہوئے لکھ سکتے ہیں لہذا احسن طریقے سے اپنے راز دوسروں تک پہنچائیں۔ میں اپ کی تحریروں کا منتظر رہوں گا اور پھر اُنہیں آرٹ کی شکل میں صفحہ اول پر شائع کروں گا۔
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 10:52 PM|
تبصرے9 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
عوامی شادی
دم رخصتی ایک آئی صدا
کرو قراں کے سائے بیٹی بدا
قرآن سر پہ تانے پیادہ چلا
یوں سنت نکاح کا جنازہ چلا
اڑاتے ہیں اپنے ہی سنت کی دھول
اور کہتے ہیں ہم ہیں محب رسول
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 6:52 PM|
تبصرے0 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
محبت کی ایک نظم
محبت کی ایک نظم
امجد اسلام امجد
اگر کبھی میری یاد آئے
تو چاند راتوں کی نرم دل گیر روشنی میں
کِسی ستارے کو دیکھ لینا
اگر وہ نخلِ فلک سے اُڑ کر تمھارے قدموں میں آگرے تو
یہ جان لینا، وہ استعارہ تھا میرے دِل کا،
اگر نہ آئے۔۔۔۔
مگر یہ ممکن ہی کو طرح ہے کہ تم کسی پر نگاہ ڈالو
تو اُس کی دیوارِجاں نہ ٹوٹے
وہ اپنی ہستی نہ بھول جائے!
اگر کبھی میری یاد آۓ
گریز کرتی ہَوا کی لہروں پہ ہاتھ رکھنا
میں خشبوؤں میں تُمہیں ملوں گا۔
مُجھے گُلابوں کی پتیوں میں تلاش کرنا
میں اوس قطروں کے آئینوں میں تمہیں مِلوں گا۔
اگر ستاروں میں، اوس قطروں میں، خشبوؤں میں، نہ پاؤ مجھ کو
تو اپنے قدموں میں دیکھ لینا
مَیں گرد ہوتی مسافتوں میں تمہیں مِلوں گا۔
کہیں پہ روشن چراغ دیکھو تو جان لینا
کہ ہر پتنگے کے ساتھ مَیں بھی بِکھر چُکا ہوں
تم اپنے ہاتھوں سے ان پتنگوں کی خاک دریا میں ڈال دینا
مَیں خاک بن کر سُمندروں میں سفر کروں گا۔
کِسی نہ دیکھے ہوۓ جزیرے پہ رُک کے تم کو صدائیں دُوں گا
سمندروں کے سَفر پہ نِکلو تو اُس جزیرے پہ بھی اترنا۔
(محبت ایسا دریا ہے۔٢٠٠٤۔پبلشر جہانگیر بُک ڈپو)
اردو کم جاننے والے حضرات کے لئے ذیل میں فرہنگ پیش کر رہا ہوں۔
فرہنگ (Thesarus)
ذیل: نیچے (following)
نرم دل گیر: دل پہ اثر کرنے والی (soft)
نخلِ فلک: آسمان
استعارہ: نشانی (allegory)
اوس: شبنم (dew)
مسافتوں: سفر میں کٹا راستہ (distances)
صدائیں: پکار ( to call aloud)
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 12:50 PM|
تبصرے0 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.22.2005
کینیڈا سے اردو ادب کے جریدے کا آغاز
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 8:27 PM|
تبصرے1 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.21.2005
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 9:05 PM|
تبصرے0 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.19.2005
اجازت طلب کرتا ہوں
اجازت طلب کرتا ہوں
یہ نظم عٰلی مُعین کی کتاب َبدن کی خانقاہَ سے متاثر ہو کر لکھی گئی
لرزتے پتے
چھوڑ دیں ساتھ شاخوں کا
وقت تھم جائے
اور رو پڑے
آواز درختوں کی
پھر جب
سنائی نہ دے بات لفظوں کی
تو سمجھ لینا
میں تیری محفل سے
برائے رُخصت اجازت طَلب کرتا ہوں
اور پٹخنے لگیں
موجیںاپنے سر بنا ساحل کے
پھر سُوکھنے لگیں
نَخلس سراب کے
تو سمجھ لینا
میں تیری دنیا سے
بَوقتِ رُخصت اجازت طَلب کرتا ہوں
جب سنائی دے
چاپ بے آواز قدموں کی
اور شور کرنے لگے
آواز بے آوازوں کی
پھر چونک جائے وجود
ناموجود کی آمد سے
تو سمجھ لینا
میں بدن کی خانقاہ سے
15 ستمبر، 1995
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 12:05 AM|
تبصرے1 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.18.2005
سکالر
لِکھنا پَڑھنا
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 10:17 PM|
تبصرے3 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.17.2005
شیرا تے بدمعاش
پہلی محبت بھی کیا چیز ہوتی ہے۔ محبت کے نشے میں چُور ہو کر اُس لڑکی کو جسے مابدولت بعد میں زمانے کی چیرہ دستیوں کی سبب نہ پاسکے تھے سارے نام جو بدنام ٹہرے تھے بتا بیٹھے۔ اُسے شیرو پسند آیا اور وہ پیار سے شیرو کہنے لگی۔ ہم خوشی سے پھولے نہ سمانے لگے۔ وہ ایک ادا سے شیرو کہتی اور ھم جان وارنے کو تیار ہو جاتے۔ وہ ایک بار بلاتی ہم دس بار جاتے۔ دوستوں نے دشمنوں کا کام کیا اورمنجھلے بھائی کو جا بتایا۔ منجھلے نے ماں جی سے جا کہا۔ ماں جی کو پتہ چلا تو بہت ناراض ہوئیں۔ ہماری عشق مستی پہ ناراضگی تو ظاہر ہے ہونا ہی تھی لیکن نام کے بگاڑ پر اور بھی ناراض ہوئیں کہ گھر والوں سے عُرفیت پہ اُلجھا تھا اور اب نامحرم لڑکیوں کہ ہاتھوں نام کے بگاڑ پر خوش ہوتا ہے۔ بولیں! سچ ہے کہ عشق اندھا ہوتا ہے۔ ہم نے ایک کان سے سنا دوسرے سے اُڑا دیا۔ ہمیں یقین ہے ماں جی کو بہت دکھ ہوا ہو گا۔ ہم نے دل کو تَسلی دی کہ ساس بہو کی چپقلش مشہور ہے سو والدہ شاید اس وجہ سے اتنا شدید ردعمل ظاہر کر رہی ہیں۔ اور یہ بھی کہ وہ اپنے خاندان سے کسی لڑکی کو بہو کے طور پر لانا چاہتی ہیں سو اس قدر ہنگامہ اور ناراضگی قدرتی سی بات ہے، سوچتی ہوں گی کہ بیٹا ہاتھ سے گیا اور ہمیشہ کیلئے پرائی لڑکی کے ہی شیشے میں اُتر گیا ہے۔ ہم نے ڈھٹائی سا کہا محبت کی باتیں آپ کیا جانیں۔ والد صاحب نے والدہ کی تربیت کو قصور وار ٹھرایا۔ ماں جی نے بس اتنا کہا کہ میں بھی عورت ذات ہوں کہے دیتی ہوں کہ عورت ذات کا کوئی بھروسا نھیں۔ اور یہ کہ تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہم شاید بہت ہی ناہنجار اور بے ادب واقع ہوئے ہیں جو ماں جی کو ناحق دقِ کیا اور بےادبی سے کلام کرتے رہے۔ یہ بات نہیں ہے۔ ماں جی سے شروع سے ہی دوستوں کی طرح سے بات ہوتی ہے اور اُن سے ہر بات کہہ لیتے ہیں۔ شاید اُنھوں نے خود سے ہی ہمارے ساتھ ایسا دوستی کا سلوک کیا کہ ہم اُن سے کوئی بات نہ چُھپا سکیں۔
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 11:20 PM|
تبصرے0 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
12.14.2005
زُبانِ شِیرٰیں
Here I will post some of my urdu writings. The gener includes 'Inshiya, Afsana, Drama, Parody, Travelouge, Biographies, Sketches, and Free Verse Poetry (Nasaree Nazam).'
ج جنجوعہ نے لکھا بوقت 11:00 AM|
تبصرے3 |
پسند آئے تو دوسروں کو ایمیل کریں
![]()
اس برقی تحریری کھاتے پر موجود تحریروں سے متعلق تمام جملہ حقوق بشمول اشاعتِ ثٰانی،عکس ونقل بنام جیم جنجوعہ محفوظ ہیں۔
گزشتہ سے پیوستہ
- پہلے درجے کے شہری
- یہ مُلاؤں کی بستی ہے
- فیصلہ
- نعرہء حق
- عید مبارک
- کچھ کہانی سنیاسی باوا کی
- Technoratiٹیکنورتی
- MIT Media Lab: $100 Laptop آج کی تازہ خبر
- سالِ نو مبارک
- چمبڑ جا
زنبیل
مشقِ سِتم
- ملا جی
- زبان شیریں
- دانائے راز
- مرچ مسالحہ
- معاشی پھڈے دار
- نگراں پاکستانی معیشت
- مرکز تحقیقاتِ اْردو
- اردو املاء کی پڑتال
- اردو انگریزی لْغت
- جنجوعہ ثانی
- زانوئے تلمذ کیلئے
- سیارہ
- فرنگی اور سپاہی
- وکی
- ہمزاد کا دکھ
- گوگل کہانی
- ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
E Mullah الیکٹرونک مُلا - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
دعا - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
میرا پاکستان - ........نے کہا
Asma - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Jahanzaib - ........نے کہا
Shoiab Safdar Ghumman - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Shoiab Safdar Ghumman - ........نے کہا
Viks - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
افتخار اجمل بھوپال - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
افتخار اجمل بھوپال - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Shoiab Safdar Ghumman - ........نے کہا
E Mullah الیکٹرونک مُلا - ........نے کہا
Viks - ........نے کہا
E Mullah الیکٹرونک مُلا - ........نے کہا
Jahanzaib - ........نے کہا
Jahanzaib - ........نے کہا
Jahanzaib - ........نے کہا
Noumaan - ........نے کہا
Jahanzaib - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
افتخار اجمل بھوپال - ........نے کہا
Jahanzaib - ........نے کہا
E Mullah الیکٹرونک مُلا - ........نے کہا
افتخار اجمل بھوپال - ........نے کہا
افتخار اجمل بھوپال - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
E Mullah الیکٹرونک مُلا - ........نے کہا
Jahanzaib - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Jahanzaib - ........نے کہا
Jahanzaib - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Jahanzaib - ........نے کہا
E Mullah الیکٹرونک مُلا - ........نے کہا
افتخار اجمل بھوپال - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
editor - ........نے کہا
Viks - ........نے کہا
Viks - ........نے کہا
Anonymous - ........نے کہا
Viks - ........نے کہا
Asma - ........نے کہا
urdudaaN - ........نے کہا
Anonymous
نقش گرِ حادثات
جتھے رابطے ہوندے نیں
اوتھے کی فیر ضابطے ہوندے نیں
اْردو علومٍ جدید
محفلِ یاراں
دست بستگی
نقار خانہ
ایویں
من پسند متفرقات
تازہ بہ تازہ
قدموں کی چاپ
ڈیزائین: خود نوشتہ
اب کہاں جاؤ گے اے دیدہ ور؟
اب تو اس سمت بھی ظلمت ہے

